Home
Please Donate for this campaign


English | தமிழ் | සිංහල | Français | español | हिंदी | বাঙালি | 中國 | русский | اردو | العربية | Deutsch | Kiswahili | Türk | Melayu


  1.  

سری لنکا کی ریاست نے خود کو اس طرح منظم کیا ہے جیسے وہ سنہالہ بودھ اکثریتی کمیونٹی کا ایک ثقافتی وارہیڈہو۔ سری لنکا کے معاملے میں،  ریاست کی حکومت  ، نہ صرف تاملوں کے خلاف بین الاقوامی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے بلکہ1948 میں اپنی آزادی کے بعد سے، پچھلے 60 برسوں کےطویل عرصے کے  دوران انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

6۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے زیادہ تر سنگین جرائم ، جن پر سوال اٹھائے گئے، ان کا ارتکاب ریاستی مشینری کے ذریعے ہوا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے Panel of Expert  کی 31 مارچ 2011 کی سری لنکا کی جوابدہی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے۔’’ احتساب کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ریاست کی جانب سے اپنے کردار اور اپنے شہریوں کے حقوق کی خلاف وزریوں سے متعلق اپنی ذ مہ داریوں کوسرکاری طورپر تسلیم کیا جائے۔  

7۔         2)  سری لنکا کا عدالتی نظام نسلی لحاظ سے غیر جانب دار نہیں ہے۔

جب تاملوں کے خلاف زیادتیوں کا معاملہ ہوتو سری لنکا کا عدالتی نظام ہمیشہ سیاسی قیادت کے تا بع رہاہے اور ماضی کے تمام Commission of Inquiry میں یہ شواہد موجود ہیں۔  حتی کہ1983 میں تامل چیف جسٹس کے تحت بھی، 1983 کے منظم قتل عام میں تاملوں کی بڑے پیمانے پر  ہلاکتوں  کا  کسی کے خلاف کبھی کوئی مقدمہ نہیں چلا۔

8۔ ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔عدالتی نظام کی ماضی کی کارکردگی اور اس کے موجودہ ڈھانچے کے جائزے کی بنیاد پر، پینل کو اس بارے میں بہت کم  بھروسہ ہے کہ وہ موجودہ سیاسی ماحول میں انصاف فراہم کرے گا۔‘‘ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ  کے Panel of Expert  کی سری لنکا میں احتساب پر رپورٹ(31 مارچ 2011 )۔

9۔ تاملوں کی 1985 سے شروع ہونے والی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر، جواب تک جاری ہیں، انصاف  فراہم نہیں کیا جاتا رہا۔ عدالتیں اپنی غیر موزونیت ثابت کرچکی ہیں اور آنے والی حکومتیوں نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت غیر مؤثر تحقیقات کروائی ہیں جس کے نتیجے میں،جرائم کے مرتکب کسی ایک شخص کو بھی سزا نہیں ہوئی۔( ایمنسٹی انٹرنیشنل، “Twenty Years of Make Believe: Sri Lank’s Commission of Inquiry”  ، 11 جون 2009)

10۔       3)    سری لنکا میں تاملوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوئی سیاسی  خواہش  موجود نہیں ۔

سابق وفاقی سیکرٹری دفاع Gotabhaya  اس وقت تک محفوظ ہیں جس تک وہ سری لنکا میں ہیں: نائب وزیر انصاف ، سری لنکا۔

11۔       4)   2010 کا مقامی Lessons Learned and Reconciliation Commission(LLRC)   تاملوں کو انصاف مہیا نہیں کرسکا۔

’’۔۔۔۔۔۔۔۔LLRC میں شدید نقائص ہیں ، وہ مؤثر احتساب کے طریق کار کے حوالے سے بین الاقوامی معیاروں پر پورا نہیں اترتا۔‘‘ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے Panel of Expert  کی سری لنکا میں احتساب  پر رپورٹ (31 مارچ 2011)۔

12۔ ایک مقامی تفتیش کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی کمیونٹی کی شرکت  کا نتیجہ بھی ناکامی کی شکل میں برآمد ہوا۔  جب مارچ 2008 میں International Independent Group of Eminent Persons(IIGEP)  اس سے مستعفی ہوگئی۔ ( ہیومن رائٹس واچ۔ Sri Lanka: Domestic Inquiry into Abuses a Smokescreen ۔ 27 اکتوبر 2009)

13۔ سنہالہ بودھ اکثریتی اداروں کے ساتھ اپنے طویل تجربے کی بنیاد پر جن کا سری لنکا کی سیاست میں غلبہ ہے، ہمیں یہ بھروسہ نہیں ہے کہ مقامی طورپر  سری لنکا  کی مسلح افواج کے ارکان  پر ، ان کی غلط کاریوں  کے سلسلے میں کبھی مقدمہ چلایا جائے گا۔  کسی بھی مقامی طریق  کار کی بین الاقوامی نگرانی  صرف وقت کا ضیاع ہوگا۔ (اقوام متحدہ  کے نامJaffina   یونیورسٹی کے پروفیسروں کی یاداشت ، 24 فروری 2015)۔

14۔       5)   سری لنکا میں  نگران کی تبدیلی کے نتیجے میں سزاؤں سے استثناء کا ادارہ جاتی نظام تبدیل نہیں ہوگا۔

اگرچہ صدر تبدیل  ہوچکاہے، لیکن تاملوں کے حوالے سے سیاسی ماحول  تبدیل نہیں ہوا۔

15۔ جنگ ختم ہونے کے وقت  کے جنرل Sarath Fonseka سمیت کئی سابق  فوجی عہدے دار موجودہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر موجود ہیں۔

16۔  ہنگامی قوانین اور پیرا ملٹری کے فعال استعمال کے سوا، تمام عوامل، خاص طورپرPrevention of Terrorism Act(PTA) ، حتی کہ کولمبو میں نگران تبدیل ہونے کے بعد بھی برقرار ہیں۔

17۔ یہ حقیقت کہ فوج کا نظام ابھی تک قائم ودائم ہے اور شمال مشرقی علاقوں کو مسلح کیے جانے کا عمل  تاملوں کے خوف کو زندہ رکھے ہوئے ہے، اور وہاں کی روزمرہ زندگی پر اس کے گہرے اثرات ہیں۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک مقامی یا مخلوط  ٹربیونل کے سامنے پیش ہونے والے  متاثرین اور عینی شاہد حقیقی معنوں میں آزاد ہوں گے۔

18۔       6)   نئے صدر  Sirisenaکا  امکانی طور پر قابل تعزیر ہونا جوابدہی کے  ایک مقامی یا مخلوط طریق کار کو چلانے میں معاون نہیں ہوسکے گا۔  

صدر Sirisena   نے ، جنگ کے آخری دور میں ، جب تاملوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کیا گیاتھا، قائمقام وزیر دفاع کی خدمات سرانجام دیں تھیں۔

19۔’’  تاملوں کے لیے Sirisena بمشکل ہی امید کی ایک کرن ہوسکتے ہیں:  وہ جنگ کے آخری ہولناک پندھواڑے میں قائمقائم وزیر دفاع تھے‘‘ ۔ اکانومسٹ، 3 جنوری 2015۔

20۔       7)   سری لنکا کے پاس جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی پر فوجداری سہولت موجود نہیں ہے۔
چونکہ ناروے کے پاس انسانیت کے خلاف کچھ جرائم  پر قوانین موجود نہیں تھے،  International Tribunal for Rwanda(ICIR) نے  Bagarasaga کو ناروے کے حوالے اس لیے  نہیں کیا، کیونکہ مدعاعلیہ کے خلاف ایک عام مجرم کے طورپر مقدمہ چلانا اس کے جرائم کی اہمیت گھٹانے  کے مترادف ہے۔

21۔       8)   حصول انصاف کے مقابلے میں امن کے حصول  کی کوشش  ایک غلط انتخاب ہے۔

’’ جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران نسل کش حملے کیے تھے،  حتی کہ آج انہیں  ڈھونڈا جارہا ہے اور مقدمے چلائے جارہے ہیں۔ جو دنیا کی اس توقع اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ۔۔۔۔کسی بھی قیمت پر انصاف سے انکار نہیں کیا جانا چاہیے۔ جسٹس C.V.Vigneswaran- Chief Minister of  the Northern Provincial Council.

22۔  درخواست کے آخر میں، ہم اقوام متحدہ سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ سری لنکا کے معاملے کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC )میں  ریفر کرے یاسری لنکا کی ریاست کی جانب سے تاملوں  کے خلاف جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی  سے متعلق الزمات کی تفتیش اور مقدمہ چلانے کے لیے  اسی جیسا  قابل اعتماد بین الاقوامی عدالتی طریق کار قائم کیا جائے۔

آپ کی توجہ اور فوری عمل  کا شکریہ۔

 

(دستخط)

نام اور ملک



 
Copyright © 2015 Transnational Government of Tamil Eelam. All rights reserved.